لندن 8؍نومبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)برطانیہ کے ایک بااثر تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس مارچ میں پیش ہونے والے بجٹ کے بعد سے برطانیہ کی عوامی مالیات میں کمی کے آثار ظاہرہوئے ہیں جو2020تک25ارب پاؤنڈ تک بڑھ سکتے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ فار فِسکل اسٹڈیزنے گذشتہ ہفتے کہاتھاکہ معیشت کی کمزورنموکی وجہ سے توقع سے کم ٹیکس وصول ہوں گے جس سے2019تا202025ارب پاؤنڈ مزید قرض لیناپڑ سکتاہے۔ادارے نے کہا ہے کہ کمزور معیشت کی پیشن گوئی کی وجہ سے’’خسارے میں خاصا اضافہ‘‘ہو سکتاہے۔یہ پیشن گوئی معیشت کے بارے میں خزاں میں پیش کی جانے والی سرکاری رپورٹ سے پہلے آئی ہے۔ یہ رپورٹ23نومبر کو پیش کی جائے گی۔فلپ ہیمنڈ کے چانسلر بننے کے بعد سے ان کا پہلا اہم امتحان ہو گا۔آئی ایف ایس کے تحقیق کار ٹامس پوپ نے کہاکہ نئے چانسلر کا پہلا مالیاتی ایونٹ آسان نہیں ہو گا۔ یہ بات یقینی ہے کہ نمو کی پیشن گوئی میں کمی لائی جائے گی، جس سے خسارے میں کافی اضافہ ہو گا، چاہے وہ اس کے لیے اخراجات میں مجوزہ کمی لے بھی آئیں۔ہیمنڈ نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنے پیش رو جارج اوزبورن کی جانب سے 2020تک کھاتے متوازن کرنے کے ہدف کی بجائے نئے گھروں اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کو ترجیح دیں گے۔آئی ایف ایس کے مطابق انھیں اب بڑے فیصلے کرنا پڑیں گے۔ ایک تو یہ کہ وہ معیشت کو تقویت دینے کے لیے اخراجات میں اضافہ یا ٹیکسوں میں کمی لائیں، دوسرے یہ کہ نئے مالیاتی اہداف کا اعلان کیا جائے۔پوپ نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتِ حال میں فلپ ہیمنڈکو'پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے، اور نئے مالیاتی اہداف کو خاصا لچکدار ہونا چاہیے۔اس کے علاوہ کئی اور اداروں نے بھی بریکسٹ کے بعد سے برطانیہ کی نمو کی پیشن گوئیوں میں کمی اور افراطِ زر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔گذشتہ ماہ آئی ایم ایف نے برطانیہ کی 2017 کی نمو میں 1.1 فیصد کی کمی کی پیشن گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ معیشت کی بحالی 'کمزور اور پرخطر ہو گی۔پچھلے ہفتے بینک آف انگلینڈ نے اس سال کے نمو کی پیشن گوئی میں ترمیم کرتے ہوئے اسے 1.8فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کر دیا تھا۔